تھوڑی دیر کے توقف کے بعد حائمہ بولی اگر کوئی آپکو شدید ناپسند ہو تو اسکو اپنی زندگی میں نہیں لانا چاہیے اپنی مرضی سے فیصلہ کریں دوسروں پر مت جائیں
اور تم نے بھی تو دوسروں کیلئے فیصلہ کیا ہے ارحان نے طنز کیا تھا
آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ لیا ہے حائمہ نے کہا اور سچ بھی یہی تھا کہ اسنے آغا جانی کے کہنے پر سوچا تھا مگر فیصلہ خود لیا تھا ارحان سے اسکو کوئی مسئلہ نہیں تھا سوائے اس بات کے کہ وہ اسکی ہر وقت بےعزتی کرتا رہتا تھا مگر ارحان نے جتنا کچھ سنا تھا وہ اسے سن کر بدگمان تھا
جھوٹ تو ہمیشہ سے لاجواب بولتی ہیں آپ حائمہ آفندی ارحان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھ کر بولی بعض اوقات حقیقت وہ نہیں ہوتی جو آپکو لگتی ہے اسلئے بدگمان نہیں ہونا چاہیے
گھر آ چکا ہے تم جاؤ ارحان نے کہا
حائمہ گاڑی سے اتر گئی تھی
ارحان نے تیزی سے گاڑی موڑی تھی اور چلا گیا تھا
حائمہ اسکی گاڑی کو دیکھ رہی تھی اور پھر ایک لمبی سانس لے کر وہ اندر چلی گئی تھی
آج کی بات چیت نے حائمہ کو ذہنی طور پر پریشان کر دیا تھا
وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اس نے غلط فیصلہ کیا ہے ذہن پہ ایک بوجھ سا تھا وہ سوچ سوچ کر پریشان تھی کہ کیا اسے فیصلہ بدل دینا چاہیے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
YOU ARE READING
عیدِ زندگی (مکمل)
Humorحائمہ ارحان عون یہ میرا دوسرا ناول ہے جو میں واٹ پیڈ پر دے رہی ہوں دوسری بات یہ کہ یہ ناول مجھے جلد ختم کرنا ہے تو جلدی میں ٹائپنگ کرتے ہوئے غلطیاں ہو جاتی ہیں پروف ریڈنگ کا موقع نہیں ملتا اگر غلطیاں نظر آئیں تو معزرت چاہوں گی کہانی ایک خاندان کی...
