عیدِ زندگی
از قلم
سحر قادر
####EPISODE 14####
💞💞💞💞💞💞💞💞
"اللہ کا شکر ہے! آج کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔" اکرم صاحب آغا جانی کو بتا رہے تھے۔ انھیں ابھی وکیل کا فون آیا تھا۔
"اچھی بات ہے۔" آغا جانی نے کہا۔
"آپ کا فون بج رہا ہے یہ لیں۔" شازیہ اکرم نے اکرم صاحب کو فون دیا۔
"ہیلو کون ہے؟" اکرم صاحب نے پوچھا۔
"مبارک ہو! کیس جیت گئے آپ!" اگلے نے کمینگی سے کہا۔
" تم؟ کیوں فون کیا ہے مجھے؟" اکرم صاحب نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
"بات یہ ہے کہ میں نے کہا تھا نا تمہاری بیٹی نہیں چھوڑوں گا۔ بس اپنی بیٹی کی خبر لو۔" دوسری طرف سے کہا گیا۔
"کیا ہوا ہے میری بیٹی کو؟" اکرم صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔
تمام لوگ اب اکرم صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے جو دوسری طرف سے خبر سننے کے بعد لڑکھڑائے تھے۔
"چاچو کیا ہوا؟" عون نے انھیں سہارا دیا۔
"حائمہ کو گولیاں لگی ہیں۔" اکرم صاحب نے ہانپتے ہوئے کہا۔
"میری بچی کیسی ہے کیا ہوا ہے اسے؟" شازیہ اکرم کی حالت خراب ہوئی تھی
عون آغا جانی اکرم اور عباس صاحب ہسپتال کیلئے نکلے۔
- - - - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - - - -
"یہ مجھے اس زمین والے بندے کا کام لگتا ہے یار تو اسے پکڑ اور پوچھ۔" ارحان زیغم سے کہہ رہا تھا۔
" اچھا میں فون رکھتا ہوں چاچو آ گئے ہیں۔" ارحان نے کہا۔
"ارحان حائمہ کہاں ہیں؟" آغا جانی آئے تھے مگر اسکی سفید شرٹ خون سے داغدار دیکھ کر انکے سینے میں درد اٹھا تھا۔
" آغا جانی کیا ہوا آپ کو؟" عباس اور عون نے گرتے ہوئے آغا جانی کو پکڑا تھا اور ڈاکٹر انکو دیکھنے کیلئے لے گئے تھے۔
اکرم صاحب بینچ پر بیٹھ گئے تھے۔ آج وہ رو رہے تھے انکی لاڈلی آج زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی جس پہ آج تک انھوں نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا، وہ آج ظالموں کا نشانہ بن گئی تھی۔
"چاچو ٹھیک ہو جائے گی وہ۔" ارحان نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا مگر وہ اسے دیکھ کر رہ گئے تھے آج وہ ٹوٹ گئے تھے۔
- - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - -
آغا جانی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا مگر انکی حالت اب خطرے سے باہر تھی۔
"ڈاکٹر حائمہ کیسی ہے اب؟" اکرم صاحب نے باہر آتے ڈاکٹر سے پوچھا۔
"اللہ کا شکر ہے کہ گولی صرف سر کو چھو کر گزری تھی اور بازو پہ لگنے والی گولیاں بھی نکال دی گئی ہیں لیکن..." ڈاکٹر کہتے کہتے رک گیا تھا۔
"لیکن کیا؟" اکرم صاحب تڑپے تھے۔
"انکا نروس بریک ڈاؤن بھی ہوا ہے جس نے انکی حالت تشویشناک کر دی ہے۔ انکے بچنے کے چانسز صرف پندرہ فیصد ہیں۔" ڈاکٹر نے کہا اور چل دیا
عون عباس اور ارحان اکرم صاحب کو تسلی دینے لگے کہ ڈاکٹر مڑ کر بولا "بچنے کے چانسز صفر بھی ہوں تو اوپر والا زندگی دے دیتا ہے۔ اس سے دعا مانگیں وہ اپنی رحمت سے سبکو نوازتا ہے۔" اور انکا کندھا تھپتھپا کر چلا گیا۔
اکرم آفندی اور عباس آفندی مسجد کیلئے نکلے جبکہ عون اور ارحان وہیں تھے۔
"بھائی اچھا نہیں کیا آپ نے!" عون نے کہا۔
" عون میری کیا غلطی ہے یہاں؟" ارحان نے اسے کہا۔
" بھائی سنا نہیں اسے گولیاں نہیں آپکی بے رخی مار گئ ہے بھائی! اگر یہ گولیاں آپ کو لگنی ہوتی تو یقین کریں وہ آپ کے سامنے آ جاتی۔" عون نے اسے جھنجھوڑا تھا۔
"کیا!" اسکے منہ سے نکلا تھا۔
" ہاں بھائی وہ آپ سے محبت کر بیٹھی تھی ورنہ آپ جانتے ہیں حائمہ اکرم آفندی زیادتی برداشت نہیں کرتی لیکن وہ حائمہ ارحان آفندی بن کر سب برداشت کر گئی تھی۔ اسنے خلع نہیں لیا چاچو کے کہنے پر بھی کیوں کہ وہ یہ نام نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔" عون نے اسکا گریبان پکڑ کر کہا۔
" عون تم سچ کہہ رہے ہو؟" ارحان کی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اسے محبت ہو گئی تھی۔
" بھائی اسے بلائیں آپ کے بلانے سے شاید وہ واپس آ جائے۔" عون نے کہا تو وہ جو انکشافات سن کر ٹوٹ گیا تھا جسے خود سے نفرت محسوس ہو رہی تھی اسے پکڑ کر بولا" بگ بی کیوں نہیں کہتے؟"
"بگ بی اسے بلائیں نا میں نے آج تک کوئی کام اسکے بغیر نہیں کیا وہ میری سب سے اچھی بہن ہے۔ اسے کہیں واپس آئے۔ وہ آپ کی سنے گی نا بگ بی پلیز. آپ دعا کرو۔" عون یہ کہہ کر اسکے گلے لگ گیا دونوں کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے۔
ایک اپنے اعمال پر شرمندہ ہو گیا تھا جبکہ دوسرا اپنی بہنوں جیسی کزن کیلئے رو پڑا تھا۔
- - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - -
ارحان گھر آیا مصلے پر بیٹھ کر آج ساری رات اسنے گزاری تھی۔
سچ کہا جاتا ہے کہ انسان عام زندگی میں بمشکل نماز پڑھتا ہے لیکن جب مشکل سر پر آئے تو وہ رب یاد آتا ہے. کیونکہ وہی ہمارا وسیلہ ہے وہی سب مشکلات کا حل کرنے والا ہے۔ وہی مسبب الاسباب ہے۔ جب انسان گھٹنوں کے بل گرتا ہے تو پھر یاد آتا ہے کوئی کن بھی کہتا ہے اور پھر وہ رب کے پاس جاتا ہے اور سجدہ میں گر جاتا ہے۔ کیونکہ وہی ہے جو انسان کو در در پر بھٹکنے سے بچاتا ہے اور ایسا ہی آج اسکے ساتھ ہوا تھا آج وہ کسی کی زندگی کی دعا مانگنے کیلئے سجدہ میں سر رکھ چکا تھا۔
زخم پھر ایسا ملا بات نماز تک جا پہنچی---!!!
فقط ایک سجدہ کیا اور بات رب تک جا پہنچی
- - - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - - -
وہ حائمہ کے کمرے میں آیا وہ ایک ایک چیز کو چھو رہا تھا۔
اسنے الماری کھولی تو حیران رہ گیا۔
وہ سارے تحفے جو اسنے حائمہ کو دئے تھے جو اسے لگتا تھا کہ وہ پھینک دیتی ہے وہ الماری میں سلیقے سے رکھے تھے۔ ساتھ ہی ایک کاغذ پڑا تھا جس پر لکھا تھا کہ
"میں ہوں حائمہ آفندی بقول ارحان آفندی کے نالائق اور نکمی! لیکن کیا کروں مجھے خود سے بہت پیار ہے۔ ان تحفوں کو سنبھالنے کا فائدہ یہ ہے کہ ایک تو وہ ارحان ہوا میں نہیں اڑے گا کہ میں اسکے تحفے استعمال کرتی ہوں اور دوسرا یہ ساری زندگی میری پاس رہیں گے ہے نا اچھی بات؟ مجھے پتہ کہ میں اچھی باتیں ہی کرتی ہوں۔"
اس کے آگے ہنسنے والی شکلیں بنی ہوئیں تھیں۔
اسنے وہ کاغذ وہیں رکھ دیا۔ اسکے سینے میں درد کی ٹیس اٹھی تھی۔ اسے ابھی ہسپتال جانا تھا۔ رات اسکو بخار بھی ہو رہا تھا تو وہ گھر آ گیا تھا۔ جبکہ عون آغا جانی کے پاس تھا اور اکرم اور عباس صاحب حائمہ کے پاس۔
" بگ بی!" عون نے کال کی اور جلدی میں کہا ارحان کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔
"عون سب ٹھیک ہے نا؟" ارحان نے پوچھا۔
"بگ بی کچھ نہ پوچھیں اور بس ہسپتال آئیں جلدی آ جائیں آپ کی نئی محبت کا واسطہ!" عون نے ہانپتے ہوئے کہا
ارحان بھاگا تھا گاڑی کی سپیڈ ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
- - - - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - - - -
جاری ہے!!
Stay tuned!!!
VOUS LISEZ
عیدِ زندگی (مکمل)
Comédieحائمہ ارحان عون یہ میرا دوسرا ناول ہے جو میں واٹ پیڈ پر دے رہی ہوں دوسری بات یہ کہ یہ ناول مجھے جلد ختم کرنا ہے تو جلدی میں ٹائپنگ کرتے ہوئے غلطیاں ہو جاتی ہیں پروف ریڈنگ کا موقع نہیں ملتا اگر غلطیاں نظر آئیں تو معزرت چاہوں گی کہانی ایک خاندان کی...
