دل کے ہاتھوںبسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
سکندر اپنی کافی کا مگ پکڑے لان میں آ بیٹھا تھا۔ باہر فضا میں ہلکی خنکی تھی لیکن اسے یہ خنکی اچھی لگ رہی تھی۔ وہ یوں ہی آسمان میں اُڑتے پرندوں کو تک رہا تھا ۔ جو ایک جھنڈ بناۓ اڑ رہے تھے۔ وہ یوں ہی دیکھنے میں مصروف تھا جب اچانک اس کی ماں اسے یوں لان میں بیٹھا دیکھ اس کی طرف آئ تھیں ۔
سکندر آسمان میں کیا ڈھونڈ رہے ہو بیٹا۔ نورین نے اس سے پوچھا۔
ان کی آواز پہ وہ چونکا تھا ۔ پھر چیئر سے اپنے پاؤں ہٹاۓاور انہیں بیٹھنے کے لیے گویہ جگا دی۔ کچھ نہیں بس یوں ہی دیکھ رھا تھا۔
وہ اس کے سامنے والی کرسی پر آکر ٹک گئ تھی۔
میں کچھ سوچ رہی تھی سکندر ۔کیا سوچ رہی ہیں۔ اس نے پوچھا ۔
مجھے وہ اسکیچ والی آنکھیں مل گئیں ۔ انہونے بڑے ہی رازدانہ انداز میں اسے گویا بتایا۔
وہ ہڑبڑایا ۔ کہاں ممی۔
اس دن پاڑٹی میں ایک لڑکی کی تھیں ۔ بالکل ویسی جیسی تم نے بنائ تھی۔
کیا نام تھا اس لڑکی کا۔ وہ تھوڑا سوچنے لگی۔مریم ضیا ۔ سکندر جلدی میں بول گیا بعد میں احساس ہوا جیسے چوری پکڑی گئ ہو۔
ہاں ۔ وہی کافی پسند آئ مجھے۔ تمھارا کیا خیال ہے۔ اب گویا وہ اس سے اعتراف چاہتی تھیں۔
مجھے کیا پتا کیسی ہے۔ اور آپ کیا مجھ سے gossips کررہی ہیں۔ میں کوئ آپ کی دوست نہیں ہو جس سے آپ دوسروں کی لڑکیاں جج کروا رہی ہیں ۔ وہ بلا کی اداکاری کرتے ہوۓ بھاگ جانے کو تیار تھا۔
اچھے اداکار بن گۓ ہو سکندر۔ وہ بھی اس کی ماں تھیں۔ میں سوچ رہی ہوں تمھارے بابا سے بات کروں۔
وہ جو لان کے دہانے پہ پہنچ گیا تھا ایک دم رکا۔ کیا بات ممی۔
کچھ نہیں تمھارے کام کی نہیں ہے تم جاؤ اپنا کام کرو۔
وہ پاؤں زمین پہ مارتا اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ ممی کو سب بتا دے گا بس ایک بار مریم اس کی بات سن لے ورنہ ہمیشہ نور میری سوتن بن کر آجاتی ہے۔ آف خود ہی اپنے خیالات کو جھٹکا میں بھی پتا نہیں کیا کیا سوچ رہا ہوں۔
******************
رات کو ڈنر کے بعد وہ چاۓ لیے اسٹیڈی ٹیبل پہ کوئ اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھی۔ ٹیبل پہ موجود کپ بھاپ اڑا رہا تھا ۔ جب اچانک کسی خیال نے اسے آلیا۔
سکندر دودن سے نظر نہیں آیا۔ مریم تم کیا سوچ رہی ہو ۔ خود کو جھڑکا اور کپ سے گھونٹبھرنے لگی۔
وہ شاید بیمار ہوگا یا پھر ایمرجنسی۔ وہ پھر سے اس کے بارے میں سوچنے لگی۔
کیا ہوگیا ہے مجھے ۔نجانے کیا سوچے جارہی ہوں۔ اب وہ چاۓ ختم کر رہی تھی۔ جب اچانک اس کا فون بجا۔

YOU ARE READING
دل کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔
General FictionAsalamu alaikum readers! Story of different characters with different mysteries....