دل کے ہاتھوں❤️
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
وہ ائیرپورٹ پہ بیٹھا فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی فلائٹ کا ٹائم دو بجے کا تھا لیکن پاکستان کی روایت فلائٹ ہو یا ٹرین کبھی وقت پہ نہیں آتیں ۔ اب اسے یہاں آکر پتا چلا تھا کہ فلائٹ ڈیڑھ گھنٹا لیٹ تھی۔ وہ ائیرپورٹ پہ بنے ایک کیفے میں کافی لینے آگیا تھا۔ وہ کافی لیکر وہیں بیٹھ گیا تھا۔ اپنے فون پہ اپنی پسند کی پلے لسٹ چلاکر وہ کافی کا مزہ لے رہا تھا۔ وہFineas
کا گانا سن رہا تھا۔I swear I don't miss you at all.
I barely still remember who is in the pictures on my wall.........:گانے کو سنتے ہوۓ وہ جیسے کہیں کھو گیا تھا۔ اس کا اجنبی رویہ اس کی بھوری سنہری آنکھیں ۔ اس کا حجاب میں لپٹا صاف شفاف چہرہ اس کے گال کا تل۔ اس کا غصہ والا چہرہ اور غصہ میں اس کی ناک کا لال ہونا ۔ اس کا ہر روپ ہر نقش اسےحفظ تھا اور آج ایک فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہا تھا۔ وہ اسے کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ ہمیشہ پہلے سے زیادہ یاد آتی تھی۔
اسے یاد آیا تھا کہ وہ اس کی اس دن کی ملاقات کے بعد بہت شرمندہ رہا تھا۔ پھر جب نعمان کی شادی کے بعد وہ وہاں ان کو dinner پہ invite کرنے گیا تھا تو وہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اسے وہاں ملی تھی۔
وہ نعمان کی شادی پہ نہیں آسکا تھا ان دنوں اس کی ماں آئ سی یو میں تھی ۔ ان کا بی پی شوٹ کرگیا تھا اس لیے وہ نہیں آسکا تھا اور کسی کو بتا یا بھی نہیں تھا۔ وہ ماں کو امریکہ کے ہسپتال لے گیا تھا اور اب نعمان کی شادی کے دو ماہ بعد واپس آیا تھا۔
وقت ملتے ہی وہ اس کی ناراضی دور کرنے آیا تھا۔ وہ لاؤنج میں بیٹھا نعمان کا انتظار کر رہا تھا۔ ماہین زویا اور نعمان کی بیوی کے ساتھ کچن میں کوئ نۓ طریقہ کا پاستہ بنا رہی تھی۔ پاستہ کم اور خوش گپیاں زیادہ چل رہی تھی۔ تبھی کام والی نے بتایا کہ بڑی بیگم صاحبہ (زویا کی امی) نے چاۓ اور کچھ لوازمات منگواۓ ہیں۔
کون آیا ہے؟ عاصیہ بھابھی نے پوچھا تھا۔
وہ نعمان صاحب کے کوئ دوست آۓ ہیں۔ کام والی نے بتایا تھا۔
کون سے دوست۔ عاصیہ نے پوچھا تھا ۔
پتا نہیں مجھے چھوٹی بی بی۔ کام والی اس کو بتا کر اپنے کام کے لیے باہر چلی گئ تھی۔
اس کے بعد وہ تینوں چاۓ کے لیے تیاری کرنے لگی تھیں ۔ زویا تو اپنے پاستہ میں ہی مصروف تھی۔ بھابھی چاۓ بنانے لگی اور ماہین کو کباب تلنے کا کہہ دیا تھا۔ پھر وہ لوگ چاۓ کی ٹرالی سیٹ کرنے لگی۔
اب یہ ٹرے کون لیکر جاۓ گا۔ عاصیہ نے کہا۔
آپ لے کر جاۓ نہ بھابھی۔ ماہین نے کہا ۔

YOU ARE READING
دل کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔
General FictionAsalamu alaikum readers! Story of different characters with different mysteries....